قرآن - 51:45 سورہ الذاريات ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

45
فَمَا ٱسۡتَطَٰعُواْ مِن قِيَامٖ وَمَا كَانُواْ مُنتَصِرِينَ

ترجمہ: کنزالایمان - وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ(43)فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ(44)فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَ(45)وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ(46) || اور ثمود میں جب ان سے فرمایا گیا ایک وقت تک برت لو۔ تو اُنہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی تو ان کی آنکھوں کے سامنے انہیں کڑک نے آلیا۔ تو وہ نہ کھڑے ہوسکے اور نہ وہ بدلہ لے سکتے تھے۔ اور اُن سے پہلے قومِ نوح کو ہلاک فرمایا، بے شک وہ فاسق لوگ تھے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور ثمود میں ( نشانی ہے) جب ان سے فرمایا گیا: ایک وقت تک فائدہ اٹھالو۔ تو انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی تو ان کی آنکھوں کے سامنے انہیں کڑک نے آلیا۔ تو وہ نہ کھڑے ہوسکے اور نہ وہ بدلہ لے سکتے تھے۔ اور ان سے پہلے قوم نوح کو ہلاک فرمایا، بیشک وہ فاسق لوگ تھے۔ || اور ثمود میں ( نشانی ہے) جب ان سے فرمایا گیا: ایک وقت تک فائدہ اٹھالو۔ تو انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی تو ان کی آنکھوں کے سامنے انہیں کڑک نے آلیا۔ تو وہ نہ کھڑے ہوسکے اور نہ وہ بدلہ لے سکتے تھے۔ اور ان سے پہلے قوم نوح کو ہلاک فرمایا، بیشک وہ فاسق لوگ تھے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الذاريات آیت 45 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ فِیْ ثَمُوْدَ: اور ثمود میں ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ قومِ ثمود کو ہلاک کرنے میں  بھی عبرت کی نشانیاں ہیں ۔ جب انہوں  نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے سرکشی کی اور حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور ان کی اونٹنی کی رگیں کاٹ دیں  توان سے فرمایا گیا کہ تین دن تک دنیا میں  اپنی زندگی سے فائدہ اٹھالو، یہی زمانہ تمہاری مہلت کا ہے اورجب تین دن گزر گئے تو ان کی آنکھوں  کے سامنے انہیں  کڑک نے آلیا اوروہ ہَولناک آواز کے عذاب سے ہلاک کردیئے گئے اور عذاب نازل ہونے کے وقت نہ وہ کھڑے ہوکر بھاگ سکے اور نہ ہی وہ اس سے بدلہ لے سکتے تھے جس نے انہیں  ہلاک کیا۔( جلالین مع جمل، الذاریات، تحت الآیۃ: ۴۳-۴۵، ۷ / ۲۸۷، ملخصاً)

{ وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ: اور ان سے پہلے قومِ نوح کو ہلاک فرمایا۔} یعنی ہلاک کی جانے والی ان قوموں  سے پہلے ہم نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کو ہلاک کیا اور انہیں  ہلاک کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود سے تجاوُز کر کے کفر اور گناہوں  پر قائم رہے۔( روح البیان، الذاریات، تحت الآیۃ: ۴۶، ۹ / ۱۶۹)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now