قرآن - 51:8 سورہ الذاريات ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

8
إِنَّكُمۡ لَفِي قَوۡلٖ مُّخۡتَلِفٖ

Transliteration: (Innakum lafee qawlim mukhtalif)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِ(7)اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ(8) || آرائش والے آسمان کی قسم۔ تم مختلف بات میں ہو۔ ترجمہ: کنزالعرفان راستوں والے آسمان کی قسم۔ تم طرح طرح کی بات میں ہو۔ || راستوں والے آسمان کی قسم۔ تم طرح طرح کی بات میں ہو۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الذاريات آیت 8 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِ: راستوں  والے آسمان کی قسم۔} اس آیت کے آخری لفظ ’’ذَاتِ الْحُبُکِ‘‘ کا ایک معنی ہے زینت والا اور دوسرا معنی ہے راستوں  والا۔ان دونوں  معنی کے اعتبار سے اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اس حسن و جمال والے آسمان کی قسم جسے ہم نے ستاروں  سے مُزَیَّن فرمایا ہے (یا) سیاروں  کی گردش کے راستوں  والے آسمان کی قسم! اے اہلِ مکہ ! تم نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں  اور قرآنِ پاک کے بارے میں  مختلف باتوں  کے قائل ہو، کبھی رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جادو گر کہتے ہو، کبھی شاعر ،کبھی کاہِن اورکبھی مجنون کہتے ہو (مَعَاذَ اللہ تَعَالٰی) اسی طرح قرآنِ کریم کو کبھی جادو بتاتے ہو ،کبھی شعر ،کبھی کہانَت اور کبھی اگلوں  کی داستانیں  کہتے ہو۔( خازن ، الذّاریات ، تحت الآیۃ : ۷-۸ ، ۴ / ۱۸۰-۱۸۱ ، روح البیان ، الذّاریات ، تحت الآیۃ : ۷-۸ ، ۹ / ۱۴۹-۱۵۰، جلالین، الذّاریٰت، تحت الآیۃ: ۷-۸، ص۴۳۲، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now