قرآن - 100:6 سورہ العاديات ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

6
إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لِرَبِّهِۦ لَكَنُودٞ

Transliteration: (Innal-insana lirabbihee lakanood)

ترجمہ: کنزالایمان - اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ(6)وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌ(7) || بیشک آدمی اپنے رب کا بڑا ناشکر ہے ۔ اور بیشک وہ اس پر خود گواہ ہے ۔ ترجمہ: کنزالعرفان بیشک انسان ضروراپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ اور بیشک وہ اس بات پرضرور خود گواہ ہے۔ || بیشک انسان ضروراپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ اور بیشک وہ اس بات پرضرور خود گواہ ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ العاديات آیت 6 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ: بیشک انسان ضرور اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔} اللّٰہ تعالیٰ نے غازیوں  کے گھوڑوں  کی قَسمیں  ذکر کر کے فرمایا : بیشک انسان اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا بڑا ناشکرا ہے ۔حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  ’’ناشکرے سے مراد وہ انسان ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں  سے مکر جاتا ہے اوربعض مفسرین نے فرمایا کہ ناشکرے سے مراد گناہگار انسان ہے اور بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ انسان ہے جو مصیبتوں  کو یاد رکھے اور نعمتوں  کو بھول جائے۔( خازن، العادیات، تحت الآیۃ: ۶، ۴ / ۴۰۲)

{وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌ: اور بیشک وہ اس بات پر ضرور خود گواہ ہے۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ بیشک وہ انسان ناشکرا ہونے پر خود اپنے عمل سے گواہ ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اللّٰہ  تعالیٰ انسان کے ناشکرے ہو نے پر خود گواہ ہے۔( خازن، العادیات، تحت الآیۃ: ۷، ۴ / ۴۰۲)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now