Transliteration: (Wa Yawma yu'radul lazeena kafaroo 'alan naari alaisa haaza bil haqq; qaaloo balaa wa Rabbinaa; qaala fazooqul 'azaaba bimaa kuntum takfuroon)
{ وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ: اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے
جائیں گے۔} اس سے پہلی آیت میں یہ ثابت
کیا گیا کہ مُردوں کوزندہ کیا جانا حق ہے اور اس آیت
میں قیامت کے دن کافروں کے بعض احوال بیان کئے جارہے
ہیں ،چنانچہ ارشاد فرمایا: جس دن کافر جہنم کی آگ پر پیش کیے
جائیں گے تو اس وقت ان سے فرمایا جائے گا: جوعذاب تم دیکھ رہے ہو
کیا یہ حق نہیں ؟وہ کہیں گے: کیوں نہیں ، ہمارے رب کی قسم!
بے شک یہ حق ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: (آج یہ اقرار تمہیں عذاب سے نہیں بچائے
گا ا س لئے اب) تم اپنے دنیوی کفر کے بدلے عذاب چکھو۔(تفسیرکبیر، الاحقاف، تحت
الآیۃ: ۳۴، ۱۰ / ۳۰، روح البیان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۳۴، ۸ / ۴۹۳، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأحقاف آیت 34 تفسیر