قرآن - 33:12 سورہ الأحزاب ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

12
وَإِذۡ يَقُولُ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ مَّا وَعَدَنَا ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ إِلَّا غُرُورٗا

Transliteration: (Wa iz yaqoolul munaafiqoona wallazeena fee quloobihim maradum maa wa'adanal laahu wa Rasooluhooo illaa ghurooraa)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا(12) || اور جب کہنے لگے منافق اور جن کے دلوں میں روگ تھا ہمیں الله و رسول نے وعدہ نہ دیا تھا مگر فریب کا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور جب منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھاوہ کہنے لگے: الله اور اس کے رسول نے ہم سے دھوکے کا وعدہ کیا۔ || اور جب منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھاوہ کہنے لگے: الله اور اس کے رسول نے ہم سے دھوکے کا وعدہ کیا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأحزاب آیت 12 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ: اور جب منافق کہنے لگے۔} خند ق کی کھدائی کے دوران نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے چٹان پر ضرب لگا کر اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور اس کے بعد یہ بشارت دی کہ فارس، روم،یمن اور حبشہ کے ممالک مسلمانوں  کے ہاتھوں  فتح ہوں  گے۔ جب کافروں  نے حملہ کیا تو ان کے لشکر دیکھ کر معتب بن قشیر کہنے لگا کہ محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تو ہمیں  فارس اور روم کی فتح کا وعدہ دیتے ہیں  اور حال یہ ہے کہ ہم میں  سے کسی کی یہ مجال بھی نہیں  کہ اپنے ڈیرے سے باہر نکل سکے تو یہ وعدہ نرا دھوکا ہے۔اس کے علاوہ منافقوں  نے بھی اسی طرح کی باتیں  کیں ۔ ان کی مذمت میں  یہ آیت نازل ہوئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر ان لوگوں  کا یہ عقیدہ مضبوط ہوتا کہ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سچے رسول ہیں  تو وہ کبھی یہ بات اپنی زبان پر نہ لاتے۔(البحر المحیط، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۱۲، ۷ / ۲۱۲، مدارک، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۹۳۵، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now