قرآن - 33:15 سورہ الأحزاب ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

15
وَلَقَدۡ كَانُواْ عَٰهَدُواْ ٱللَّهَ مِن قَبۡلُ لَا يُوَلُّونَ ٱلۡأَدۡبَٰرَۚ وَكَانَ عَهۡدُ ٱللَّهِ مَسۡـُٔولٗا

Transliteration: (Wa laqad kaanoo 'aahadul laaha min qablu laa yuwal loonal adbaar; wa kaana 'ahdul laahi mas'oolaa)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَؕ-وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْــٴُـوْلًا (15) || اور بیشک اس سے پہلے وہ الله سے عہد کرچکے تھے کہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور الله کا عہد پوچھا جائے گا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور بیشک اس سے پہلے وہ اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور الله کے وعدے کا پوچھا جائے گا۔ || اور بیشک اس سے پہلے وہ اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور الله کے وعدے کا پوچھا جائے گا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأحزاب آیت 15 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ: اوربیشک اس سے پہلے وہاللہ سے عہد کرچکے تھے۔} یعنی جو لوگ مدینہ منورہ میں  اپنے گھروں  کی طرف لوٹ جانے کی اجازت طلب کر رہے ہیں ، بیشک وہ غزوہِ خندق سے پہلے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کر چکے تھے کہ وہ دشمنوں  کو پیٹھ دکھاکرجنگ سے فرار نہیں  ہوں  گے، بزدلی کا مظاہرہ نہیں  کریں  گے اور جو غلطی ہم سے پہلے سرزد ہوئی اسے نہیں  دہرائیں  گے، لیکن انہوں  نے وہ عہد توڑ دیا اور اپنے گھروں  میں  واپس جانے کی اجازت طلب کر نے لگ گئے۔یہ یاد رکھیں  کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے وعدے کے بارے میں  پوچھا جائے گا اور اسے پورا نہ کرنے پر سزا دی جائے گی۔( روح البیان، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۱۵، ۷ / ۱۵۲)

            اس سے معلوم ہوا کہ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کسی چیز کا عہد کرنا گویا رب عَزَّوَجَلَّ سے عہد کرنا ہے کیونکہ حضورِ انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ رب تعالیٰ کے نائب ِاعظم اور مختارِ مُطلَق ہیں ، لہٰذا آپ سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرنا لازم ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now