Transliteration: (Allazeena yuballighoona Risaalaatil laahi wa yakhshaw nahoo wa laa yakkhshawna ahadan illal laah; wa kafaa billaahi Haseebaa)
{اَلَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ: وہ جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں ۔} اس آیت میں انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا وصف بیان فرمایا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیغامات بندوں تک پہنچاتے ہیں اور اپنے ہر عمل میں اس سے ڈرتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا خوف نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے میں کسی کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے (جیسے یہاں حضرت زینب سے نکاح کے معاملے میں سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حکمِ الٰہی پر ہر خوف و اندیشے کو دل سے نکال کر حکمِ خدا پرعمل کیا) اور اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے اعمال کو محفوظ فرمانے اور لوگوں کا حساب لینے کے لئے کافی ہے تو اسی سے ہر ایک کو ڈرنا چاہئے۔( روح البیان ، الاحزاب ، تحت الآیۃ : ۳۹ ، ۷ / ۱۸۲، خازن، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۳۹، ۳ / ۵۰۳، مدارک، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۳۹، ص۹۴۳، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأحزاب آیت 39 تفسیر