قرآن - 33:57 سورہ الأحزاب ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

57
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُؤۡذُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابٗا مُّهِينٗا

Transliteration: (Innal lazeena yu'zoonal laaha wa Rasoolahoo la'anahumul laahu fid dunyaa wal Aakhirati wa a'adda lahum 'azaabam muheenaa)

ترجمہ: کنزالایمان - اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا(57) || بیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ نے ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان بیشک جو اللہ اور اس کے رسول کوایذا دیتے ہیں ان پردنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرما دی ہے اور اللہ نے ان کے لیے رسواکردینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ || بیشک جو اللہ اور اس کے رسول کوایذا دیتے ہیں ان پردنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرما دی ہے اور اللہ نے ان کے لیے رسواکردینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأحزاب آیت 57 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ: بیشک جو اللہ اور اس کے رسول کوایذا دیتے ہیں ۔} اس آیت میں  ایذا دینے والوں  سے مراد کفار ہیں  جو اللہ تعالیٰ کی شان میں  ایسی باتیں  کہتے ہیں  جن سے وہ مُنَزّہ اور پاک ہے اوروہ کفار مراد ہیں  جو رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تکذیب کرتے ہیں ، ان پر دنیا اور آخرت میں  اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آخرت میں  رسواکردینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

            یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ کوئی اسے ایذا دے سکے یا اسے کسی سے ایذا پہنچے،اس لئے یہاں  اللہ تعالیٰ کو ایذا دینے سے مراد اس کے حکم کی مخالفت کرنا اور گناہوں  کا اِرتکاب کرنا ہے یایہاں  اللہ تعالیٰ کا ذکر صرف تعظیم کے طور پر ہے جبکہ حقیقت میں  اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو ایذا دینے سے مراد خاص رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ایذا دینا ہے،جیسے جس نے رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کی تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، اسی طرح جس نے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ایذا دی اس نے اللہ تعالیٰ کو ایذا دی۔(جلالین، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۵۷، ص۳۵۷، خازن، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۵۷، ۳ / ۵۱۱، روح البیان، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۵۷، ۷ / ۲۳۷، ملتقطاً)

نوٹ: حضورپُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کسی فعل شریف کو ہلکی نگاہ سے دیکھنا یا کسی قسم کا اعتراض کرنا یا آپ کے ذکرِ خیر کو روکنا اورآپ کو عیب لگانا بھی نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ایذا دینے میں  داخل ہے اور اس قسم کے لوگ بھی دنیا و آخرت میں  لعنت کے مستحق ہیں ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now