Transliteration: (Qad jaaa'akum basaaa'iru mir Rabbikum faman absara falinafsihee wa man 'amiya fa'alaihaa; wa maaa ana 'alaikum bihafeez)
{ قَدْ جَآءَكُمْ: بیشک تمہارے پاس آگئیں۔} یعنی اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ لوگوں سے فرما دیں کہ تمہارے پاس تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے توحید ،نبوت، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور حساب و جزاء سے متعلق دل کی آنکھیں کھول دینے والی دلیلیں آگئیں تو جس نے دل کی آنکھ سے حق کو دیکھا اور ا س پر ایمان لے آیا تو اس میں اس کا اپنا فائدہ ہے اور جو حق ظاہر ہونے کے باوجود اسے دیکھنے سے اندھا رہا اور ا س پر ایمان نہ لایا تو اس میں نقصان بھی اس کا اپنا ہے اور میں تم پر نگہبان نہیں کہ تمہارے اعمال اور افعال کی نگہبانی کرتا پھروں بلکہ میں تمہاری طرف تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کا رسول ہوں تاکہ اس کاپیغام تم تک پہنچا دوں جبکہ اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے ،اس سے تمہارے اعمال اور احوال میں سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے اور وہی تمہیں تمہارے اعمال کی جزاء دے گا۔ (روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۳ / ۸۱، خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۲ / ۴۴، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنعام آیت 104 تفسیر