قرآن - 6:127 سورہ الأنعام ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

127
۞لَهُمۡ دَارُ ٱلسَّلَٰمِ عِندَ رَبِّهِمۡۖ وَهُوَ وَلِيُّهُم بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ

Transliteration: (Lahum daarus salaami 'inda Rabbihim wa huwa waliyyuhum bimaa kaanoo ya'maloon)

ترجمہ: کنزالایمان - لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(127) || ان کے لیے سلامتی کا گھر ہے اپنے رب کے یہاں اور وہ ان کا مولیٰ ہے یہ ان کے کاموں کا پھل ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان ان کے لیے ان کے اعمال کے بدلے میں ان کے رب کے حضور سلامتی کا گھر ہے اور وہ ان کا مددگار ہے۔ || ان کے لیے ان کے اعمال کے بدلے میں ان کے رب کے حضور سلامتی کا گھر ہے اور وہ ان کا مددگار ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنعام آیت 127 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{ لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ:ان کیلئے سلامتی کا گھر ہے۔} دارُالسلام کے دو معنی ہیں (1) سلام اللہ تعالی کا نام ہے، تو ’’دار السلام‘‘  کا معنی ہوا وہ گھر جس کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے اور یہ اضافت تشریف اور عزت افزائی کے لئے ہے جیسے بَیْتُ اللہ اور نَاقَۃُ اللہ میں ہے۔ (2) اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ’’ سلام‘‘ دار کی صفت ہے یعنی یہ سلامتی کا گھر ہے اور جنت کو ’’ دارُالسلام‘‘ اس لئے فرمایا ہے کہ جنت میں ہر قسم کے عیوب، تکلیفوں اور مشقتوں سے سلامتی ہے۔ (تفسیر کبیر، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ۵ / ۱۴۶) جنت کو دارُ السلام کہنے کی تیسری وجہ یہ ہے کہ جنتیوں کو جنت میں دخول کے وقت سلام کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے، فرشتوں کی طرف سے اور اہلِ اعراف کی طرف سے ان کو سلام پیش کیا جائے گا اور جنتی بھی ایک دوسرے کو سلام کریں گے ۔ (بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ۲ / ۱۰۷)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now