Transliteration: (Wa likullin darajaatum mimmaa 'amiloo; wa maa Rabbuka bighaafilin 'ammaa ya'maloon)
{ وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ:اور ہر ایک کے لیے درجے ہیں۔} ہر ایک کے لیے چاہے وہ نیک ہو یا گنہگار اس کے اچھے اور برے اعمال کے اعتبار سے درجے ہیں اور انہی کے مطابق ثواب ا ور عذاب ہوگا۔ جنتیوں کو جنت میں ان کے نیک اعمال کے مطابق درجے دئیے جائیں گے، ایسے ہی جہنمیوں کو جہنم میں ان کے برے اعمال کے مطابق مختلف درجوں میں سزا دی جائے گی یا یہ مطلب ہے کہ نیک اعمال کے درجے مختلف ہیں۔ ایک ہی عمل ایک شخص کے لئے زیادہ ثواب کا باعث ہے اوردوسرے کے لئے کم ثواب کا۔ حدیث شریف میں ہے کہ’’ قیامت میں اعمال کا بدلہ عقل کے بَقدر ملے گا۔ (معجم الاوسط، باب الباء، من اسمہ بشر، ۲ / ۲۱۵، الحدیث: ۳۰۵۷)
لہٰذا اس آیت سے ہزارہا مسائل مُسْتَنْبَط ہو سکتے ہیں۔ عمل کا صلہ جگہ، وقت، موقعہ اور ضرورت کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے، جیسے جہاں مسجدیں بہت زیادہ ہوں اور کنوئیں کم ہوں وہاں مسجد کی بجائے کنواں بنوانا زیادہ اچھا ہے۔ اس آیت سے علماء نے یہ بھی استدلال کیا ہے کہ جنات بھی جنت میں جائیں گے کیونکہ یہاں سب کیلئے ’’دَرَجٰتٌ‘‘ فرمایا گیا ہے اور ’’كُل‘‘میں جنات بھی داخل ہیں۔(تفسیر قرطبی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۳۱، ۴ / ۶۳، الجزء السابع)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنعام آیت 132 تفسیر