Transliteration: (Samaaniyata azwaajim minad da'nisnaini wa minal ma'zis nain; qul 'aaazzaka raini harrama amil unsaiyayni ammash tamalat 'alaihi arhaamul unsayayni nabbi 'oonee bi'ilmin in kuntum saadiqeen)
{ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ:آٹھ نر و مادہ۔} اس آیت میں جانوروں کے آٹھ جوڑے بیان کئے گئے یعنی نرومادہ اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری کے جوڑے۔ جانور تو اس کے علاوہ بھی ہیں لیکن چونکہ اہلِ عرب کے سامنے زیادہ تریہی جانور ہوتے تھے اور حرام و حلال کے جو انہوں نے قاعدے بنائے تھے وہ بھی انہی جانوروں کے بارے میں تھے اس لئے بطورِ خاص انہی جوڑوں کا بیان کیا گیا چنانچہ فرمایا کہ کیا ان جانوروں کے صرف نر حرام ہیں یا صرف مادے یا نرومادہ دونوں ؟ اللہ تعالیٰ نے نہ تو بھیڑ بکری کے نَر حرام کئے اور نہ اُن کی مادائیں حرام کیں اور نہ اُن کی اولاد ۔ تمہارا یہ فعل کہ کبھی نر حرام ٹھہراؤ کبھی مادہ کبھی اُن کے بچّے یہ سب تمہاری اپنی اِختراع ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں۔
{ نَبِّـٴُـوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ:اگر تم سچے ہو تو علم کے ساتھ بتاؤ۔}یعنی ان جانوروں کو تم حرام مانتے ہو،اگر اس میں تم سچے ہو تو اس حرمت کی قطعی یقینی دلیل لاؤ۔
اس سے معلوم ہوا کہ حلت کا دعویٰ کرنے والے سے دلیل نہ مانگی جائے گی بلکہ حرمت کا دعویٰ کرنے والے پر دلیل لانا لازم ہے۔ آج کل بدمذہب ہم سے ہر چیز کی حلت پر دلیل مانگتے ہیں اور خود حرمت کی دلیل نہیں پیش کرتے۔ یہ اصول قرآن کے صریح خلاف ہے۔ خود غور کر لیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کے حرام ماننے والوں سے دلیل مانگی ہے یا حلال سمجھنے والوں سے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنعام آیت 143 تفسیر