قرآن - 6:161 سورہ الأنعام ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

161
قُلۡ إِنَّنِي هَدَىٰنِي رَبِّيٓ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ دِينٗا قِيَمٗا مِّلَّةَ إِبۡرَٰهِيمَ حَنِيفٗاۚ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ

ترجمہ: کنزالایمان - قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ﳛ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًاۚ-وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(161) || تم فرماؤ بیشک مجھے میرے رب نے سیدھی راہ دکھائی ٹھیک دینِ ابراہیم کی ملّت جو ہر باطل سے جُدا تھے اور مشرک نہ تھے ۔ ترجمہ: کنزالعرفان تم فرماؤ، بیشک مجھے میرے رب نے سیدھے راستے کی طرف ہدایت فرمائی، (یہ) مضبوط دین ہے جوہر باطل سے جدا ابراہیم کی ملت ہے اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔ || تم فرماؤ، بیشک مجھے میرے رب نے سیدھے راستے کی طرف ہدایت فرمائی، (یہ) مضبوط دین ہے جوہر باطل سے جدا ابراہیم کی ملت ہے اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنعام آیت 161 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{ قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْ:تم فرماؤ، بیشک مجھے میرے رب نے ہدایت فرمائی۔} اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بلاواسطہ رب تعالیٰ نے عقائد، اعمال ہر قسم کی ہدایت دی۔ دوسرے یہ کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اول سے ہدایت پر تھے ایک آن کے لئے اس سے دور نہ ہوئے۔ جو ایک آن کے لئے بھی حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ہدایت سے علیحدہ مانے وہ اس آیت کا منکر ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ میرے رب نے مجھے ادب سکھایا اور بہت اچھا ادب سکھایا۔ (جامع صغیر، حرف الہمزۃ، ص۲۵، الحدیث: ۳۱۰)

{ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ:اور (ابراہیم) مشرکوں میں سے نہ تھے۔} اس میں کفارِ قریش کا رد ہے جو گمان کرتے تھے کہ وہ دین ابراہیمی پر ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مشرک و بت پرست نہ تھے تو بت پرستی کرنے والے مشرکین کا یہ دعویٰ کہ وہ ابراہیمی ملت پر ہیں باطل ہے۔

عظمتِ انبیاء:

            اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں سے کفار کے الزام اٹھانا سنتِ الٰہیہ ہے، جو ان کی عزت و عظمت پر اپنی جان و مال، تحریر، تقریر صرف کرتا ہے وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک مقبول ہے۔ رب تعالیٰ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کفار کا یہ الزام دفع فرمایا کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مَعَاذَاللہ مشرک تھے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now