Transliteration: (Wa man azlamu mim manif tara 'alal laahi kaziban aw kazzaba bi Aayaatih; innahoo laa yuflihuz zaalimoon)
{ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ :اور اس سے بڑھ کر ظالم کون؟} جو کسی کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شریک ٹھہرائے یا جو بات اس کی شان کے لائق نہ ہو اس کی طرف نسبت کرے وہ سب سے بڑا ظالم ہے کیونکہ ظلم کہتے ہیں کسی شے کو اس کی اصل جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھ دینا تو جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے شایانِ شان نہیں ہے اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف منسوب کرنا یقینا سب سے بڑا ظلم ہوگا۔
اس وعید میں مشرک بھی داخل کہ وہ توحید کو اس کی جگہ سے ہٹاتے ہیں اور دیگرکفار بھی داخل ہیں۔ یونہی اس میں فلموں ، ڈراموں یا کسی بھی ذریعے سے کفریات سیکھ کر بولنے یا خوشی سے سننے والے بھی داخل ہیں کہ وہ بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف وہ چیزیں منسوب کرتے ہیں جو اس کی شایانِ شان نہیں اور اس میں زمانۂ ماضی اور خصوصاً زمانۂ حال کے وہ اسکالرز ،دانشور اور مفکر بھی شامل ہیں جو دیدہ دانستہ قرآن کی غلط تفسیریں کرتے ہیں یا نااہل ہوتے ہوئے قرآن کی تفسیر کرتے ہیں کیونکہ یہ بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنعام آیت 21 تفسیر