{ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ:اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو تمہاری طرف کان لگاکر سنتا ہے۔}ایک مرتبہ ابوسفیان، ولید، نضر اور ابوجہل وغیرہ جمع ہو کر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تلاوتِ قرآن پاک سننے لگے تو نضرسے اس کے ساتھیوں نے کہا کہ محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کیا کہتے ہیں ؟ کہنے لگا: میں نہیں جانتا ،زبان کو حرکت دیتے ہیں اور پہلوں کے قصے کہہ رہے ہیں جیسے میں تمہیں سنایا کرتا ہوں۔ ابوسفیان نے کہا کہ ان کی باتیں مجھے حق معلوم ہوتی ہیں۔ ابوجہل نے کہا کہ اس کا اِقرار کرنے سے مرجانا بہتر ہے۔ اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۲۵، ۲ / ۱۰) کافروں کے قرآنِ پاک کو پرانے قصے کہنے سے مقصد کلامِ پاک کا وحیِ الٰہی ہونے کا انکار کرنا ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنعام آیت 25 تفسیر