قرآن - 6:37 سورہ الأنعام ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

37
وَقَالُواْ لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ ءَايَةٞ مِّن رَّبِّهِۦۚ قُلۡ إِنَّ ٱللَّهَ قَادِرٌ عَلَىٰٓ أَن يُنَزِّلَ ءَايَةٗ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ

Transliteration: (Wa qaaloo law laa nuzzila 'alaihi Aayatum mir Rabbih; qul innal laaha qaadirun 'alaaa ai yunazzila Aayatanw wa laakinna aksarahum laa ya'lamoon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(37) || اور بولے ان پر کوئی نشانی کیوں نہ اتری ان کے رب کی طرف سے تم فرماؤ کہ اللہ قادر ہے کہ کوئی نشانی اتارے لیکن ان میں بہت نرے جاہل ہیں۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور کہا: ان پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اترتی؟ تم فرمادو کہ بیشک اللہ کسی نشانی کے اتارنے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ بے علم ہیں ۔ || اور کہا: ان پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اترتی؟ تم فرمادو کہ بیشک اللہ کسی نشانی کے اتارنے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ بے علم ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنعام آیت 37 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{ وَ قَالُوْا: اور انہوں نے کہا۔} کفارِ مکہ نے کہا تھا کہ محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ایسی کوئی نشانی کیوں نہیں اترتی جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں۔ اس پر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرمایا گیا کہ ان کے جواب میں اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تم فرمادو کہ بیشک اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر قسم کی نشانی اتارنے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ اس بات سے بے علم ہیں کہ اگر کوئی نشانی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اتار دی تو نہ ماننے کی صورت میں فوری طور پر ہلاک کردیے جائیں گے۔ کفار کی گمراہی اور ان کی سرکشی اس حد تک پہنچ گئی کہ وہ کثیر آیات و معجزات جو انہوں نے سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے مشاہدہ کئے تھے اُن پر قناعت نہ کی اور سب سے مکر گئے اور ایسی نشانی طلب کرنے لگے جس کے ساتھ عذابِ الٰہی ہو جیسا کہ انہوں نے کہا تھا  ’’ اَللّٰہُمَّ اِنۡ کَانَ ہٰذَا ہُوَالْحَقَّ مِنْ عِنۡدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیۡنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ‘‘ یارب اگر یہ حق ہے تیرے پاس سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا۔ (ابو سعود، الانعام، تحت الآیۃ: ۳۷، ۲ / ۱۴۶۔) اس پر انہیں فرمایا گیا کہ یہ جاہل ہیں اور جانتے نہیں کہ اس طرح کی نشانی کا اترنا ان کے لئے بلا و مصیبت ہے کہ انکار کرتے ہی ہلاک کردیئے جائیں گے اور اپنی موت خود اپنے منہ سے مانگ رہے ہیں۔ ان معجزات کا نہ اتارنا بھی حضورپرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رحمت کی وجہ سے ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now