Transliteration: (Wa law nazzalnaa 'alaika Kitaaban fee qirtaasin falamasoohu bi aideehim laqaalal lazeena kafarooo in haazaaa illaa sihrum mubeen)
{ وَ لَوْ نَزَّلْنَا: اور اگرہم اتار دیتے۔} یہ آیت نضربن حارث ، عبداللہ بن اُمیّہ اور نوفل بن خویلد کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے کہا تھا کہ اے محمد! (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) ہم تم پر ہر گز ایمان نہ لائیں گے جب تک تم ہمارے پاس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے کتاب نہ لاؤ جس کے ساتھ چار فرشتے ہوں ، وہ گواہی دیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور تم اس کے رسول ہو۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی(تفسیر بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۷، ۲ / ۷۰) اور بتایا گیا کہ یہ سب حیلے بہانے ہیں کیونکہ اگر کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب بھی اتار دی جاتی اور وہ اُسے اپنے ہاتھوں سے چھو کر اور ٹٹول کر دیکھ لیتے تو بھی یہی کہتے کہ ان کی نظر بندی کردی گئی تھی اورکتاب اُترتی نظر توآئی تھی لیکن حقیقت میں کچھ بھی نہیں تھا جیسے انہوں نے معجزہ شقُّ القمر یعنی چاند کے دوٹکڑے ہونے کے معجزے کو جادو بتایا اور اس معجزہ کو دیکھ کربھی ایمان نہ لائے، اسی طرح اِس پر بھی ایمان نہ لاتے کیونکہ جو لوگ عنادا ً انکار کرتے ہیں وہ آیات و معجزات سے نفع نہیں اٹھاسکتے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنعام آیت 7 تفسیر