قرآن - 8:15 سورہ الأنفال ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

15
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا لَقِيتُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ زَحۡفٗا فَلَا تُوَلُّوهُمُ ٱلۡأَدۡبَارَ

ترجمہ: کنزالایمان - یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَ(15) || اے ایمان والو جب کافروں کے لام سے تمہارا مقابلہ ہو تو انہیں پیٹھ نہ دو۔ ترجمہ: کنزالعرفان اے ایمان والو! جب کافروں کے لشکر سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرو۔ || اے ایمان والو! جب کافروں کے لشکر سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرو۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنفال آیت 15 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:اے ایمان والو!۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ میدانِ جنگ میں مسلمان کافروں کو پیٹھ نہ دکھائیں اور یہ حکم اس وقت ہے کہ جب کفار مسلمانوں سے تعداد میں ڈبل ہوں اِس سے زیادہ نہ ہوں اور اگر کفار کی تعداد مسلمانوں کے مقابلے میں ڈبل سے زیادہ ہو تو پھر مسلمانوں کا پیٹھ پھیرکر بھاگنا ناجائز و حرام نہیں ہے۔ جمہور کے نزدیک ایک سو مسلمانوں کا دو سو کفار کے مقابلے سے بھاگنا کسی حال میں جائز نہیں ہے اور اگر کافر وں کی تعداد دو سو سے زیادہ ہو تو ان کے مقابلے سے بھاگنا اگرچہ جائز ہے لیکن صبر و اِستِقامت سے ان کے مقابلے میں ڈٹے رہنا بہتر اور افضل ہے۔(تفسیر قرطبی، الانفال، تحت الآیۃ: ۱۶، ۴ / ۲۷۲، الجزء السابع)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now