قرآن - 8:23 سورہ الأنفال ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

23
وَلَوۡ عَلِمَ ٱللَّهُ فِيهِمۡ خَيۡرٗا لَّأَسۡمَعَهُمۡۖ وَلَوۡ أَسۡمَعَهُمۡ لَتَوَلَّواْ وَّهُم مُّعۡرِضُونَ

Transliteration: (Wa law 'alimal laahu feehim khairal la asma'ahum; wa law asma'ahum latawallaw wa hum mu'ridoon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْؕ-وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ(23) || اور اگر اللہ ان میں کچھ بھلائی جانتا تو انہیں سنادیتا اور اگر سنا دیتا جب بھی انجام کا ر منہ پھیر کر پلٹ جاتے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور اگر اللہ ان میں کچھ بھلائی جانتا تو انہیں سنا دیتا اور اگروہ انہیں سنا دیتا تو بھی وہ روگردانی کرتے ہوئے پلٹ جاتے۔ || اور اگر اللہ ان میں کچھ بھلائی جانتا تو انہیں سنا دیتا اور اگروہ انہیں سنا دیتا تو بھی وہ روگردانی کرتے ہوئے پلٹ جاتے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنفال آیت 23 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا:اور اگر اللہ ان میں کچھ بھلائی جانتا۔ } بعض مفسرین نے فرمایا کہ اہلِ مکہ حضور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے یہ فرمائش کرتے کہ آپ ہمارے سامنے قُصَی کو زندہ کر دیں کیونکہ وہ بابرکت بزرگ ہے، اگر اس نے آپ کی نبوت کی گواہی دے دی تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اگر ان کی خواہش کے مطابق ہم قُصَی کو زندہ کر دیتے اور وہ اس کا کلام سن لیتے تو بھی وہ روگردانی کرتے ہوئے پلٹ جاتے۔ (تفسیر بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۳، ۲ / ۲۰۲) یہاں خیر سے مراد صدق و رغبت ہے یعنی اگراللہ عَزَّوَجَلَّ ان لوگوں کے دلوں میں قبولِ حق کا سچا جذبہ اور رغبت جانتا یعنی پاتا تو انہیں سنادیتا یعنی ان کے مطلوبہ معجزات انہیں دکھا دیتا اور حق سنا دیتا لیکن چونکہ ان کے دلوں میں وہ صدق و رغبت موجود ہی نہیں لہٰذا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں ان کے مطلوبہ معجزات نہ دکھائے اور اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں دکھا بھی دیتا تو یہ منہ پھیر لیتے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now