Transliteration: (Wa qaatiloohum hattaa laa takoona fitnatunw wa yakoonaddeenu kulluhoo lillaah; fainin tahaw fa innallaaha bimaa ya'maloona Baseer)
{وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ:اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فساد باقی نہ رہے۔}اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! ان کافروں سے لڑو یہاں تک کہ شرک کاغلبہ نہ رہے اوراللہ تعالیٰ کا دین اسلام غالب ہو جائے ، پھر اگر وہ اپنے کفر سے باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ ان کے کام دیکھ رہا ہے،وہ انہیں اس کی اور ان کے اسلام لانے کی جزا دے گااور اگریہ لوگ ایمان لانے سے روگردانی کریں تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارامددگارہے ، تم اسی کی مدد پر بھروسہ رکھو اور ان کی دشمنی کی پرواہ نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کیا ہی اچھا مولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار ہے۔( جلالین، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۹، ص۱۵۱،تفسیر سمرقندی، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۹، ۲ / ۱۸، روح البیان، الانفال، تحت الآیۃ: ۳۹، ۳ / ۳۴۵، ملتقطاً)
اس آیت میں جہاد کا ذکر ہوااس مناسبت سے یہاں جہاد کے دو فضائل ملاحظہ ہوں ،
(1)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک گھڑی ٹھہرنا حجر اسود کے پاس شب قدر میں قیام کرنے سے بہتر ہے۔( شعب الایمان، السابع والعشرون من شعب الایمان۔۔۔۔ الخ، ۴ / ۴۰، الحدیث: ۴۲۸۶)
(2)…حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’جو شخص میرے راستے میں جہاد کرتا ہے میں اس کا ضامن ہوں ،اگر میں اس کی روح قبض کرتا ہوں تو اسے جنت کا وارث بناتا ہوں اور اگر واپس(گھر) لوٹاتا ہوں تو ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ لوٹاتا ہوں۔(ترمذی، کتاب فضائل الجہاد، باب ما جاء فی فضل الجہاد، ۳ / ۲۳۱، الحدیث: ۱۶۲۶)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنفال آیت 39 تفسیر