قرآن - 8:4 سورہ الأنفال ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

4
أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ حَقّٗاۚ لَّهُمۡ دَرَجَٰتٌ عِندَ رَبِّهِمۡ وَمَغۡفِرَةٞ وَرِزۡقٞ كَرِيمٞ

ترجمہ: کنزالایمان - اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاؕ-لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ(4) || یہی سچے مسلمان ہیں ان کے لیے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور بخشش ہے اور عزت کی روزی۔ ترجمہ: کنزالعرفان یہی سچے مسلمان ہیں ، ان کے لیے ان کے رب کے پاس درجات اور مغفرت اور عزت والا رزق ہے۔ || یہی سچے مسلمان ہیں ، ان کے لیے ان کے رب کے پاس درجات اور مغفرت اور عزت والا رزق ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنفال آیت 4 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا:یہی سچے مسلمان ہیں۔} انہیں سچے مسلمان کا لقب اس لئے عطا ہو اکہ جہاں ان کے دل خَشیتِ الٰہی، اخلاص اور توکل جیسی صفاتِ عالیہ سے مُتَِّصف ہیں وہیں ان کے ظاہری اعضاء بھی رکوع و سجود اور راہِ خدا میں مال خرچ کرنے میں مصروف ہیں۔ (بیضاوی، الانفال، تحت الآیۃ: ۴، ۳ / ۸۸-۸۹)

{لَهُمْ دَرَجٰتٌ: ان کے لیے درجے ہیں۔} اس آیت میں ما قبل مذکور پانچ اوصاف کے حامل مؤمنین کے لئے تین جزائیں بیان کی گئی ہیں :

(1)…ان کیلئے ان کے رب کے پاس درجات ہیں۔  یعنی جنت میں ان کے لئے مَراتب ہیں اور ان میں سے بعض بعض سے اعلیٰ ہیں کیونکہ مذکورہ بالا اوصاف کو اپنانے میں مؤمنین کے اَحوال میں تَفاوُت ہے اسی لئے جنت میں ان کے مراتب بھی جدا گانہ ہیں۔

(2)…ان کے لئے مغفرت ہے ۔یعنی ان کے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔

(3)… اور عزت والا رزق ہے۔ یعنی وہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے جنت میں تیار فرمایا ہے۔ اسے عزت والا اس لئے فرمایا گیا کہ انہیں یہ رزق ہمیشہ تعظیم واکرام کے ساتھ اور محنت و مشقت کے بغیرعطا کیا جائے گا۔( خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۴، ۲ / ۱۷۸)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now