قرآن - 8:64 سورہ الأنفال ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

64
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ حَسۡبُكَ ٱللَّهُ وَمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ

ترجمہ: کنزالایمان - یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ(64) || اے غیب کی خبریں بتانے والے اللہ تمہیں کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اے نبی! اللہ تمہیں کافی ہے اور جو مسلمان تمہارے پیروکار ہیں ۔ || اے نبی! اللہ تمہیں کافی ہے اور جو مسلمان تمہارے پیروکار ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنفال آیت 64 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ:اے نبی!اللہ تمہیں کافی ہے۔}اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے دھوکہ دینے کی صورت میں نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اپنی مدد و نصرت کا وعدہ فرمایا تھا اورا س آیت میں اللہ تعالیٰ نے مطلقاً ہر حال میں اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مدد ونصرت اور کامیابی کا وعدہ فرمایا ہے۔ شانِ نزول: ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت غزوۂ بدر میں جنگ سے پہلے نازل ہوئی اور مومنین سے انصار صحابۂ کرام یا انصار و مہاجرین دونوں مراد ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ یہ آیت حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے اسلام قبول کرنے سے متعلق نازل ہوئی۔ اس قول کے مطابق یہ آیت مکی ہے اوررسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حکم سے مدنی سورت میں لکھی گئی ہے۔ اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو کافی ہے اور ان مسلمانوں کو بھی کافی ہے جنہوں نے آپ کی پیروی کی۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اللہ آپ کو کافی ہے اور آپ کی پیروی کرنے والے مسلمان آپ کو کافی ہیں۔ (تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۶۴، ۵ / ۵۰۳، خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۶۴، ۲ / ۲۰۷-۲۰۸، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now