قرآن - 29:13 سورہ العنكبوت ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

13
وَلَيَحۡمِلُنَّ أَثۡقَالَهُمۡ وَأَثۡقَالٗا مَّعَ أَثۡقَالِهِمۡۖ وَلَيُسۡـَٔلُنَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ عَمَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ

Transliteration: (Wa la yahmilunna asqaa lahum wa asqaalam ma'a asqaalihim wa la yus'alunna Yawmal Qiyaamati 'ammaa kaanoo yaftaroon (section 1))

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ٘-وَ لَیُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(13) || اور بیشک ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ اور ضرور قیامت کے دن پوچھے جائیں گے جو کچھ بہتان اٹھاتے تھے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور بیشک ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ اٹھائیں گے اور ضرور ان سے قیامت کے دن ان کے بہتانوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ || اور بیشک ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ اٹھائیں گے اور ضرور ان سے قیامت کے دن ان کے بہتانوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ العنكبوت آیت 13 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ: اور بیشک ضرور اپنے بوجھ اُٹھائیں  گے۔} ارشاد فرمایاکہ مسلمانوں  سے ان کے گناہوں  کا بوجھ اٹھانے کا کہنے والے کفار کا اپنا یہ حال ہو گا کہ وہ قیامت کے دن اپنے گناہوں  اور کفر وگمراہی کابوجھ اٹھائیں  گے اور اس کے ساتھ ساتھ جن لوگوں  کوانہوں  نے گمراہ کیاتھاان کے گناہوں  کابوجھ بھی یہی لوگ اٹھائیں  گے اورقیامت کے دن ضروران سے ان کے بہتانوں  کے بارے میں  پوچھا جائے گا کہ انہوں  نے یہ بہتان کیوں  تراشے اور کس دلیل کی وجہ سے انہوں نے  بہتان لگائے ۔یاد رہے کہ کافروں  کے اعمال اور بہتان سب اللہ تعالیٰ جانتا ہے،اس کے باوجود کافروں  سے جو سوال ہو گاوہ معلومات حاصل کرنے کے لئے نہ ہو گا بلکہ انہیں  ڈانٹ ڈپٹ کرنے کیلئے ہو گا۔

دوسروں  کو گمراہ اور گناہوں  میں  مبتلا کرنے کا انجام:

            اس آیت سے معلو م ہوا کہ جو خود گمراہ ہو اور اس کے ساتھ ساتھ دوسروں  کو بھی گمراہی کی طرف بلاتا ہو تواسے اپنی گمراہی کا گناہ اور اس کی سزا تو ملے گی البتہ اس کے ساتھ ان لوگوں  کی گمراہی کا گناہ اور سزا بھی اسے ملے گی جنہیں  اس نے گمراہ کیا تھا اور گمراہ ہونے والوں  کے اپنے گناہ میں  بھی کوئی کمی نہ ہو گی۔حضرت جریر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جو کوئی اسلام میں  اچھا طریقہ جاری کرے اس کو اس کا ثواب ملے گا اوراس کابھی جواس کے بعد اس پر عمل کریں  گے او ران عمل کرنے والوں  کے اپنے ثواب میں  بھی کمی نہ ہوگی اور جو شخص اسلام میں  براطریقہ جاری کرے اس پر اس کا گناہ ہوگا اوران کا بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کریں  اور ان عمل کرنے والوں کے اپنے گناہ میں  بھی کچھ کمی نہ آئے گی ۔(صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ ولو بشقّ تمرۃ۔۔۔ الخ، ص۵۰۸، الحدیث: ۶۹(۱۰۱۷))

            اس سے ان لوگوں  کو عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کی بڑی ضرورت ہے جو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں  کو بھی گناہوں  میں  مبتلا ہونے کے مَواقع فراہم کرتے اور انہیں  طرح طرح کے دُنْیَوی مَنافع اور فوائد بتا کر گناہوں  کی ترغیب دیتے ہیں  اللہ تعالیٰ انہیں  ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے،اٰمین۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now