قرآن - 29:35 سورہ العنكبوت ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

35
وَلَقَد تَّرَكۡنَا مِنۡهَآ ءَايَةَۢ بَيِّنَةٗ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ

Transliteration: (Wa laqad taraknaa min haaa aayatan baiyinatan liqawminy ya'qiloon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ(35) || اور بیشک ہم نے اس سے روشن نشانی باقی رکھی عقل والوں کے لیے ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور بیشک ہم نے عقل والوں کے لیے اس بستی میں روشن نشانی کو باقی رکھا۔ || اور بیشک ہم نے عقل والوں کے لیے اس بستی میں روشن نشانی کو باقی رکھا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ العنكبوت آیت 35 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً: اور بیشک ہم نے اس بستی میں  روشن نشانی کو باقی رکھا۔} بیشک ہم نے اس بستی میں  ان لوگوں  کے لیے روشن نشانی کو باقی رکھا جو اپنی عقل غورو فکر کرنے میں  استعمال کرتے ہیں  ۔اس نشانی کے بارے میں  حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں  :وہ روشن نشانی حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے ویران مکان ہیں ۔ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد اس قوم کا عجیب و غریب واقعہ ہے اور ایک قول یہ ہے کہ روشن نشانی سے مراد وہ پتھر ہیں  جو ان پر برسے تھے اور ان پتھروں  پر ان لوگوں  کے نام لکھے ہوئے تھے،یہ عرصۂ دراز تک باقی رہے اور حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے انہیں  دیکھا تھا۔(روح البیان، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۳۵، ۶ / ۴۶۷، خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۳۵، ۳ / ۴۵۰، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now