Transliteration: (Fakullan akhaznaa bi zanbihee faminhum man arsalnaa 'alaihi haasibaa; wa minhum man akhazat hus saihatu wa minhum man khasafnaa bihil arda wa minhum man aghraqnaa; wa maa kaanal laahu li yazlimahum wa laakin kaanoo anfusahum yazlimoon)
{فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ: تو ان میں ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کی وجہ سے پکڑا۔} اس آیت کی ابتدا میں بیان فرمایا گیا کہ سابقہ قوموں میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہ کی وجہ سے ہی پکڑا ۔اس کے بعد سابقہ قوموں پر آنے والے مختلف عذابات میں سے چار عذاب بیان کئے گئے ،
(1)… کسی پر اللہ تعالیٰ نے پتھراؤ بھیجا ۔یہ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم تھی جنہیں چھوٹے چھوٹے پتھروں سے ہلاک کیا گیا اور یہ پتھر تیز ہوا سے ان پر لگتے تھے ۔
(2)… کسی کو خوفناک آواز نے پکڑلیا ۔یہ حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم ثمود تھی جو ہَولْناک آواز کے عذاب سے ہلاک کی گئی ۔
(3)… کسی کو زمین میں دھنسادیا۔اس عذاب میں مبتلا ہونے والے قارون اور ا س کے ساتھی تھے۔
(4)… کسی کو ڈبو دیا ۔ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگ اور فرعون اور ا س کی قوم کے لوگ ا س عذاب کا شکار ہوئے ۔
آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ ان لوگوں پر ظلم کرے کیونکہ وہ کسی کو گناہ کے بغیر عذاب میں گرفتار نہیں کرتا، ہاں وہ خود ہی نافرمانیاں کر کے اور کفر و سرکشی کو اختیار کر کے اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے اور اسی بنا پر وہ طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کر دئیے گئے ۔(خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۰، ۳ / ۴۵۱، مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۰، ص۸۹۲-۸۹۳، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ العنكبوت آیت 40 تفسیر