قرآن - 7:109 سورہ الأعراف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

109
قَالَ ٱلۡمَلَأُ مِن قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ إِنَّ هَٰذَا لَسَٰحِرٌ عَلِيمٞ

Transliteration: (Qaalal mala-u min qawmi Fir'awna inna haazaa lasaahirun 'aleem)

ترجمہ: کنزالایمان - قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌ(109) || قومِ فرعون کے سردار بولے یہ تو ایک علم والا جادوگر ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان قومِ فرعون کے سردار بولے : بیشک یہ توبڑے علم والا جادوگر ہے۔ || قومِ فرعون کے سردار بولے : بیشک یہ توبڑے علم والا جادوگر ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأعراف آیت 109 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ:قومِ فرعون کے سردار بولے۔ } جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی صداقت ظاہر کرنے کیلئے دو معجزات دکھائے تو قومِ فرعون کے سردار بولے: بیشک یہ توبڑے علم والا جادوگر ہے جس نے جادو سے نظر بندی کر دی اور لوگوں کو عصا اژدہا نظر آنے لگا اور گندمی رنگ کا ہاتھ آفتاب سے زیادہ روشن معلوم ہونے لگا۔ انہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے متعلق یہ بات اس لئے کہی کہ اس زمانے میں جادو کا بڑا زور تھا، جادو کی بہت سی قسمیں تھیں اور بعض قسمیں بڑی حیران کن تھیں ،اسی لئے فرعون کی قوم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں خیال کیا کہ یہ جادو میں بڑے ماہر ہیں ، پھر انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ انہوں نے اتنا بڑا جادو اس لئے پیش کیا ہے کہ یہ شائد ملک و ریاست کے طلبگار ہیں۔(خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۲ / ۱۲۵، تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۵ / ۳۳۰، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now