Transliteration: (Wa iz nataqnal jabala fawqahum ka annahoo zullatunw wa zannooo annahoo waaqi'un bihim khuzoo maaa aatainaakum biquwwatinw wazkuroo maa feehi la'allakum tattaqoon)
{وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ:اور یاد کرو، جب ہم نے پہاڑ ان کے اوپر بلند کردیا۔} جب بنی اسرائیل نے تکالیفِ شاقّہ کی وجہ سے توریت کے احکام قبول کرنے سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے ایک پہاڑ جس کی مقدار ان کے لشکر کے برابر تھی یعنی تین میل لمبا اور تین میل چوڑا پہاڑ اُٹھا کر سائبان کی طرح اُن کے سروں کے قریب کردیا اور اُن سے کہا گیا کہ توریت کے احکام قبول کرو ورنہ یہ تم پر گرا دیا جائے گا۔ پہاڑ کو سروں پر دیکھ کر سب کے سب سجدے میں گر گئے۔مگر اس طرح کہ بایاں رخسارا ورابرو تو انہوں نے سجدے میں رکھ دی ا ور دائیں آنکھ سے پہاڑ کو دیکھتے رہے کہ کہیں گر ہی نہ پڑے، چنانچہ اب تک یہودیوں کے سجدے کی یہی شان ہے ۔ (صاوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۱، ۲ / ۷۲۳)
اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کا 23 سال کے عرصے میں آہستہ آہستہ اتر نا بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاص رحمت ہے کہ اس طرح مسلمانوں کو تمام احکامات پر عمل آسان ہو گیا۔ آزاد طبیعت ایک دم سارے احکام کی پابندی میں دِقت محسوس کرتی ہے ۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأعراف آیت 171 تفسیر