Transliteration: (Wa kazaalika nufassilul Aayaati wa la'allahum yarji'oon)
{وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ:اور ہم اسی طرح تفصیل سے آیات بیان کرتے ہیں۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جس طرح آپ کی قوم کے سامنے ہم نے اس سورت کی آیات تفصیل سے بیان کی ہیں ہم ان کے علاوہ آیات بھی اسی طرح تفصیل سے بیان کرتے ہیں تاکہ بندے تَدَبُّرو تفکر کرکے حق و ا یمان قبول کریں اور اس لیے تفصیل سے آیات بیان کرتے ہیں تا کہ وہ شرک و کفر سے توحید و ا یمان کی طرف رجوع کر لیں اور صاحبِ معجزات نبی کے بتانے سے اپنے عہدِ میثاق کو یاد کریں اور اس کے مطابق عمل کریں۔ (تفسیر طبری، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۴، ۶ / ۱۱۸، خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۴، ۲ / ۱۵۸، ملتقطاً)
چونکہ قرآنِ کریم تمام لوگوں کی ہدایت کے لئے آیا ہے اور لوگوں میں سے بعض ڈر سے ، بعض لالچ سے اور بعض دلائل سے مانتے ہیں ، اس لئے قرآنِ کریم میں ہر طرح کی آیات مذکور ہیں کہ جو جس چیز سے مان سکے مان لے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأعراف آیت 174 تفسیر