Transliteration: (Wa laa yastatee'oona lahum nasranw wa laaa anfusahum yansuroon)
{وَلَایَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا:اور نہ وہ ان کی کوئی مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔} اس آیت میں بتوں کی بے قدری اور شرک کے بُطلان کا بیان اور مشرکین کے کمالِ جہل کا اظہار ہے اور بتایا گیا ہے کہ عبادت کا مستحق وہی ہوسکتا ہے جو عبادت کرنے والے کو نفع پہنچانے اور ا س کا ضرر دور کرنے کی قدرت رکھتا ہو، مشرکین جن بتوں کو پوجتے ہیں ان کی بے قدرتی اس درجے کی ہے کہ وہ کسی چیز کے بنانے والے نہیں ، کسی چیز کے بنانے والے تو کیا ہوتے خود اپنی ذات میں دوسرے سے بے نیاز نہیں۔ خود مخلوق ہیں اور بنانے والے کے محتاج ہیں۔ اس سے بڑھ کر بے اختیاری یہ ہے کہ وہ کسی کی مدد نہیں کرسکتے اور کسی کی کیا مدد کریں گے خود انہیں کوئی ضرر پہنچے تو اسے دور نہیں کرسکتے۔ کوئی انہیں توڑ دے، گرا دے الغرض جو چاہے کرے وہ اس سے اپنی حفاظت نہیں کرسکتے لہٰذا ایسے مجبور وبے اختیار کو پوجنا انتہا درجے کا جہل ہے۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۹۲، ۵ / ۴۳۰-۴۳۱)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأعراف آیت 192 تفسیر