Transliteration: (Fareeqan hadaa wa fareeqan haqqa 'alaihimud dalaalah; innahumut takhazush Shayaateena awliyaaa'a min doonil laahi wa yahsaboona annahum muhtadoon)
{ فَرِیْقًا هَدٰى:ایک گروہ کو ہدایت دی۔} یعنی تمام لوگ ایمان نہ لائیں گے۔ کچھ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایمان و معرفت کی ہدایت دی اور انہیں طاعت و عبادت کی توفیق دی۔ ان کے بالمقابل کچھ لوگ ایسے ہیں جو گمراہ ہوئے اور یہ کفار ہیں ، انہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنالیا ہے۔ شیطانوں کو دوست بنانے کا مطلب یہ ہے کہ اُن کی اطاعت کی، اُن کے کہے پر چلے، اُن کے حکم سے کفرو معاصی کو اختیار کیا اور اس کے باوجود یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت یافتہ ہیں۔ عمومی گمراہی سے بدتر گمراہی یہ ہوتی ہے کہ آدمی گمراہ ہونے کے باوجود خود کو ہدایت یافتہ سمجھے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأعراف آیت 30 تفسیر