Transliteration: (Yaa Banee Aadama immaa ya'tiyannakum Rusulum minkum yaqussoona 'alaikum Aayaatee famanit taqaa wa aslaha falaa khawfun 'alaihim wa laa hum yahzanoon)
{ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ:اگر تمہارے پاس تم میں سے رسول تشریف لائیں۔} یہاں اسی سابقہ تَناظُر میں اولادِ آدم سے خطاب ہے کہ اے اولادِ آدم! تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول تشریف لائیں گے جو تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتاب پڑھ کر سنائیں گے اُسے سن کرجو پرہیزگاری اختیار کرے گا اور ممنوعات سے بچتے ہوئے عبادت و اطاعت کا راستہ اختیار کرے گا تو قیامت کے دن اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذا ب کا نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ دنیا میں کچھ چھوڑ دینے کی وجہ سے غمگین ہوگا بلکہ قیامت کے دن حسب ِ مرتبہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم سے بہرہ وَر ہوں گے ۔ چنانچہ ا س دن کتنے ہی لوگ نور کے منبروں پر ہوں گے، جیسا کہ سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت کرنے والوں کیلئے (قیامت کے دن) نور کے منبر ہوں گے جن پر انبیاءعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور شہداء بھی رشک کریں گے۔ (ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الحب فی اللہ، ۴ / ۱۷۴، الحدیث: ۲۳۹۷)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأعراف آیت 35 تفسیر