{ فَلَنَسْــٴَـلَنَّ:تو بیشک ضرور ہمیں پوچھنا ہے۔} یعنی ان امتوں سے پوچھا جائے گا جن کی طرف رسول بھیجے گئے کہ تمہیں تمہارے رسولوں نے تبلیغ کی یا نہیں اور تم نے رسولوں کی د عوت کا کیا جواب دیا اور ان کے حکم کی کیا تعمیل کی۔ اور رسولوں سے دریافت کیاجائے گا کہ کیاآپ نے اپنی اُمتوں کو ہمارے پیغام پہنچائے اور تمہاری قوم نے تمہیں کیا جواب دیاتھا۔ یہاں علماء نے فرمایا ہے کہ یہ سوال و جواب ہمارے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے متعلق نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ وَ لَا تُسْــٴَـلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ ‘‘ (البقرہ:۱۱۹)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اورآپ سے جہنمیوں کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔
اور نہ کوئی بد باطن کافر یہ کہہ سکے گا کہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تبلیغ نہیں فرمائی۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأعراف آیت 6 تفسیر