قرآن - 7:84 سورہ الأعراف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

84
وَأَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِم مَّطَرٗاۖ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُجۡرِمِينَ

Transliteration: (Wa 'amtarnaa 'alaihim mataran fanzur kaifa kaana aaqibatul mujrimeen)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًاؕ-فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ(84) || اور ہم نے ان پر ایک مینھ برسایا تو دیکھو کیسا انجام ہوا مجرموں کا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور ہم نے ان پر بارش برسائی تو دیکھو ،مجرموں کاکیسا انجام ہوا؟ || اور ہم نے ان پر بارش برسائی تو دیکھو ،مجرموں کاکیسا انجام ہوا؟

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأعراف آیت 84 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{ وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا:اور ہم نے ان پر بارش برسائی۔} حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر اس طرح عذاب آیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر پتھروں کی خوفناک بارش برسائی کہ جو گندھک اور آگ سے مُرَکَّب تھے ۔ایک قول یہ ہے کہ بستی میں رہنے والے جو وہاں مقیم تھے وہ تو زمین میں دھنسادیئے گئے اور جو سفر میں تھے وہ ا س بارش سے ہلاک کئے گئے۔ امام مجاہد رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کہا کہ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نازل ہوئے اور انہوں نے اپنا بازو قومِ لوط کی بستیوں کے نیچے ڈال کر اس خطہ کو اکھاڑ لیا اور آسمان کے قریب پہنچ کر اس کو اوندھا کرکے گرا دیا اور اس کے بعد پتھروں کی بارش کی گئی۔

آیت’’ وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا ‘‘سے معلوم ہونے والے مسائل:

            اس آیت سے دو مسئلے معلوم ہوئے ،

(1)… یہ بدکاری تمام جرموں سے بڑا جرم ہے کہ ا س جرم کی وجہ سے قومِ لوط پر ایسا عذاب آیا جو دوسری عذاب پانے والی قوموں پر نہ آیا۔

(2)… مجرموں کے تاریخی حالات پڑھنا، ان میں غور کرنا بھی عبادت ہے تا کہ اپنے دل میں گناہوں سے نفرت پیدا ہو، اسی طرح محبوب قوموں کے حالات میں غور کرنا محبوب ہے تا کہ اطاعت کا جذبہ پیدا ہو۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now