Transliteration: (Wa aqeemus salaata wa aatuz zakaah; wa maa tuqaddimoo li anfusikum min khairin tajidoohu 'indal laah; innal laaha bimaa ta'maloona baseer)
{وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ: اور نماز قائم کرو۔} یہاں مسلمانوں کو اپنی اصلاحِ نفس کا حکم دیا جارہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کسی بھی دینی یا دنیوی اہم کام میں مصروف ہواسے اپنے نفس کی اصلاح سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ عین حالت ِ جہاد میں بھی نمازِ خوف کا حکم موجود ہے۔ طلاق کے مسائل بیان کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ نے نماز اور تقویٰ کے احکام بیان فرمائے ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی نیکی کی دعوت میں یا علمِ دین کے حصول یا کسی دوسرے اہم دینی کام میں مشغول ہے تو اسے اپنی اصلاح سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 110 تفسیر