Transliteration: (Wa qaalut takhazal laahu waladan subhaanahoo bal lahoo maa fis samaawaati wal ardi kullul lahoo qaanitoon)
{سُبْحٰنَهٗ: اللہ پاک ہے۔} یہودیوں نے حضرت عزیرعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خدا کا بیٹا ماناجبکہ مشرکینِ عرب نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیاجیسا کہ تینوں چیزیں قرآن پاک میں مذکور ہیں۔ ان سب کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی۔
{لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ: اسی کا ہے جو آسمانوں میں ہے۔} کسی کی اولاد اس کی ملکیت نہیں ہوسکتی اور جب آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے تو اس کی اولاد کیسے ہوسکتی ہے؟ نیزاولاد حقیقت میں ماں باپ کا جز ہوتی ہے اور آدمی اپنے جز کا مالک نہیں ہوتا۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 116 تفسیر