Transliteration: (Wa lan tardaa 'ankal Yahoodu wa lan Nasaaraa hattaa tattabi'a millatahum; qul inna hudal laahi huwalhudaa; wa la'init taba'ta ahwaaa'ahum ba'dal lazee jaaa'aka minal 'ilmimaa laka minal laahi minw waliyyinw wa laa naseer)
{وَ لَنْ تَرْضٰى: اور ہرگز راضی نہ ہوں گے۔}فرمایا جارہا ہے کہ اے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یہودی اور عیسائی ہرگز آپ سے راضی نہ ہوں گے جب تک آپ ان کے دین کی پیروی نہ کرلیں اور یقینا یہ بات ناممکن ہے کہ آپ ان کے دین کی پیروی کریں کیونکہ وہ باطل ہیں۔ ان کے مقابلے میں آپ جواب دیں کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہی حقیقی ہدایت ہے جو اس نے مجھے عطا فرما رکھی ہے۔ اس آیت سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ کفار بحیثیت ِ مجموعی مسلمانوں سے کبھی راضی نہیں ہوسکتے اگرچہ ظاہری طور پر کبھی حالات مختلف ہوجائیں۔ افسوس کہ ہزاروں تجربات کے بعد بھی مسلمان سبق نہیں سیکھتے۔
{وَ لَىٕنِ اتَّبَعْتَ: اور اگر تم نے پیروی کی۔} یہ خطاب امت محمدیہ کو ہے کہ جب تم نے جان لیا کہ سیدالانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ تمہارے پاس حق و ہدایت لائے تو تم ہر گز کفار کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اگر ایسا کیا تو تمہیں کوئی عذاب ِالٰہی سے بچانے والا نہیں۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۰، ۱ / ۸۴)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 120 تفسیر