Transliteration: (Rabbanaa waj'alnaa muslimaini laka wa min zurriyyatinaaa ummatam muslimatal laka wa arinaa manaasikanaa wa tub 'alainaa innaka antat Tawwaabur Raheem)
{وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ: اور ہمیں فرمانبردار رکھ۔} سبحان اللہ ،وہ حضرات اللہ تعالیٰ کے مطیع و مخلص بندے تھے پھر بھی یہ دعا اس لیے مانگ رہے ہیں کہ مزید اطاعت و عبادت و اخلاص اور کمال نصیب ہو۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام معصوم ہیں ،آپ کی طرف سے توبہ تواضع یعنی عاجزی ہے اور اللہ والوں کے لیے تعلیم ہے۔ خانہ کعبہ اور اس کا قرب قبولیت کا مقام ہے ،یہاں دعا اور توبہ کرناسنت ِابراہیمی ہے۔
{وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا: اور ہمیں ہماری عبادت کے طریقے دکھا۔} معلوم ہوا کہ عبادت کے طریقے سیکھنا حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔اس کیلئے دعا بھی کرنی چاہیے اور کوشش بھی۔ بغیر طریقہ سیکھے عبادت کرنا اکثر عبادت کو ضائع کرتا ہے۔حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ ہر مسلمان پر علم سیکھنا فرض ہے۔(ابن ماجہ، کتاب السنّۃ، باب فضل العلماء۔۔۔ الخ، ۱ / ۱۴۶، الحدیث: ۲۲۴) فرض عبادت کا طریقہ و مسائل سیکھنا بھی اسی میں داخل ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 128 تفسیر