Transliteration: (Fa in aamanoo bimisli maaa aamantum bihee faqadih tadaw wa in tawallaw fa innamaa hum fee shiqaaq; fasayakfeekahumul laah; wa Huwas Samee'ul Aleem)
{بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ: تمہارے ایمان کی طرح۔} یہودیوں کو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی طرح ایمان لانے کا فرمایا،اس سے معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا ایمان بارگاہِ الہٰی میں معتبر اور دوسروں کیلئے مثال ہے۔
{فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ: تو عنقریب اللہ تمہیں ان کی طرف سے کفایت فرمائے گا۔} یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ذمہ ہے کہ وہ اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو غلبہ عطا فرمائے گا اور اس میں غیب کی خبربھی ہے کہ آئندہ حاصل ہونے والی فتوحات کا پہلے سے اظہار فرمایا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا یہ ذمہ پورا ہوا اور یہ غیبی خبر صادق ہو کر رہی، کفار کے حسد و دشمنی اور ان کی مکاریوں سے حضورپر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو کوئی ضرر نہ پہنچا۔ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فتح نصیب ہوئی، بنی قُرَیْظَہ قتل ہوئے جبکہ بنی نَضِیْر جلا وطن کئے گئے اوریہود ونصاریٰ پر جزیہ مقرر ہوا۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 137 تفسیر