Transliteration: (Wa min haisu kharajta fawalli wajhaka shatral Masjidil Haraam; wa innahoo lalhaqqu mir Rabbik; wa mallaahu bighaafilin 'ammaa ta'maloon)
{وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ: اور تم جہاں سے آؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ خواہ کسی شہر سے سفر کے لیے نکلیں بہرحال نماز میں اپنا منہ مسجد حرام ( یعنی کعبہ) کی طرف کریں ، کیونکہ جس طرح حالت اقامت میں کعبہ کی طرف منہ کرنے کاحکم ہے اسی طرح سفرمیں بھی یہی حکم ہے اور بے شک کعبہ کو قبلہ بنایا جانا ضرور آپ کے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے حق اور حکمت کے عین موافق ہے اور اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ، اس لئے وہ تمہیں اس عمل کی بہترین جزا دے گا۔(روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۴۹، ۱ / ۲۵۴)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 149 تفسیر