قرآن - 2:16 سورہ البقرہ ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

16
أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشۡتَرَوُاْ ٱلضَّلَٰلَةَ بِٱلۡهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَٰرَتُهُمۡ وَمَا كَانُواْ مُهۡتَدِينَ

Transliteration: (Ulaaa'ikal lazeenash tara wud dalaalata bilhudaa famaa rabihat tijaaratuhum wa maa kaanoo muhtadeen)

ترجمہ: کنزالایمان - اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى۪-فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ(16) || یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی تو ان کا سودا کچھ نفع نہ لایا اور وہ سودے کی راہ جانتے ہی نہ تھے ۔ ترجمہ: کنزالعرفان یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدلی تو ان کی تجارت نے کوئی نفع نہ دیا اوریہ لوگ راہ جانتے ہی نہیں تھے۔ || یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدلی تو ان کی تجارت نے کوئی نفع نہ دیا اوریہ لوگ راہ جانتے ہی نہیں تھے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 16 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{ اِشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى:یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدلی۔} ہدایت کے بدلےگمراہی خریدنا یعنی’’ ایمان کی بجائے کفر اختیار کرنا‘‘ نہایت خسارے اور گھاٹے کا سودا ہے۔ یہ آیت یا توان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے یا یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی جوپہلے تو حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان رکھتے تھے مگر جب حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری ہوئی تو منکر ہو گئے، یا یہ آیت تمام کفار کے بارے میں نازل ہوئی اس طور پر کہ اللہ  تعالیٰ نے انہیں فطرت سلیمہ عطا فرمائی، حق کے دلائل واضح کئے، ہدایت کی راہیں کھولیں لیکن انہوں نے عقل و انصاف سے کام نہ لیا اور گمراہی اختیار کی تو وہ سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے تاجر ہیں کہ انہوں نے نفع ہی نہیں بلکہ اصل سرمایہ بھی تباہ کرلیا۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now