Transliteration: (Wa masalul lazeena kafaroo kamasalil lazee yan'iqu bimaa laa yasma'u illaa du'aaa'anw wa nidaaa'aa; summum bukmun 'umyun fahum laa ya'qiloon)
{وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا: اور کافروں کی مثال۔} حضور پرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافروں کو مسلسل دینِ حق کی دعوت دیتے رہتے۔ کافر سنتے تو تھے لیکن اس سے کچھ نفع حاصل نہ کرتے یعنی ایمان نہ لاتے۔ ان کے اس سننے کی مثال بیان کی گئی کہ جس طرح جانوروں کا ایک ریوڑ ہو اور ان کا مالک انہیں آواز دے تو وہ محض ایک آواز تو سنتے ہیں لیکن مالک کے کلام کا مفہوم نہیں سمجھتے، یونہی کافروں کا حال ہے کہ حبیب ِ خداصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ انہیں حق کی طرف بلاتے ہیں ، یہ ان کا کلام سنتے ہیں لیکن جواب میں جانوروں جیسا طرزِ عمل ظاہر کرتے ہیں۔ ایسے آنکھ، کان، زبان کا کیا فائدہ جس سے کوئی نفع نہ اٹھایا جاسکے۔ اس اعتبار سے تو یہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں۔ اس آیت میں کچھ درس ہمارے لئے بھی ہے کہ دعوت و تبلیغ، وعظ و نصیحت، قرآن و حدیث ، اصلاح و تفہیم کے باوجود جو طرزِ عمل ہمارا ہے وہ بھی کچھ سوچنے کا تقاضا کرتا ہے کہ اِس اعتبار سے ہمارے آنکھ، کان بھی کھلے ہوئے ہیں یا نہیں ؟
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 171 تفسیر