Transliteration: (Famam baddalahoo ba'da maa sami'ahoo fa innamaaa ismuhoo 'alallazeena yubaddi loonah; innallaha Samee'un 'Aleem)
{فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ: پھر جو وصیت کو سننے کے بعد اسے تبدیل کردے۔} وصیت کرنے کے بعد زندگی کے اندر اندر وصیت کرنے والے کو تو وصیت تبدیل کرنے کا اختیار ہوتا ہے لیکن فوت ہونے کے بعد کسی دوسرے شخص کو وصیت میں تبدیلی کی اجازت نہیں خواہ وصی تبدیل کرے یا گواہ یا کوئی اور۔ یونہی وصیت کے کاغذات میں تبدیلی کی جائے یا مال کی تقسیم میں۔ افسوس کہ مال کی محبت میں لوگ وصیتوں میں بہت ہیر پھیر کرتے ہیں ، وصیت چھپا دیتے ہیں ، جعلی وصیت نامے بنالیتے ہیں ، وصیت میں تبدیلی کردیتے ہیں ، وصیت پر عمل نہیں کرتے۔ ایک اہم مسئلہ یہ بھی یاد رہے کہ وصیت کے بارے میں ضروری ہے کہ شریعت نے جو قوانین بنائے ہیں ان پر عمل کیا جائے۔ ان سے ہٹ کر عمل کی اجازت نہیں مثلاً ورثاء راضی نہ ہوں پھر بھی تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کردی جائے اور اس پر عمل کرلیا جائے۔ یہ سب ناجائز و حرام ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 181 تفسیر