Transliteration: (Sal Banee Israaa'eela kam aatainaahum min aayatim baiyinah; wa mai yubaddil ni'matal laahi mim ba'di maa jaaa'athu fa innallaaha shadeedul'iqaab)
{ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ: ہم نے انہیں کتنی روشن نشانیاں دیں۔} فرمایا گیا کہ بنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے انہیں کتنی روشن نشانیاں عطا فرمائیں ، ان کے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات کو ان کی نبوت کی صداقت کی دلیل بنایا، ان کے ارشاد اور ان کی کتابوں کو دین اسلام کی حقانیت کا گواہ بنایا۔یاد رہے کہ یہ پوچھنا حقیقت میں انہیں قائل کرنے اور شرمندہ کرنے کے لئے ہے اور ان کی اپنی نافرمانیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں کا اقرار کرانے کے لئے ہے۔
{وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ: اور جو اللہ کی نعمت کو بدل دے۔} اللہ تعالیٰ کی نعمت سے آیات الٰہیہ مراد ہیں جو ہدایت کا سبب ہیں اوران کی بدولت گمراہی سے نجات حاصل ہوتی ہے انہیں میں سے وہ آیات ہیں جن میں سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نعت و صفت اور حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت و رسالت کا بیان ہے اور یہود و نصاریٰ کا اپنی کتابوں میں تحریف کرنا اس نعمت کو تبدیل کرناہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 211 تفسیر