قرآن - 2:218 سورہ البقرہ ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

218
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَٱلَّذِينَ هَاجَرُواْ وَجَٰهَدُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أُوْلَـٰٓئِكَ يَرۡجُونَ رَحۡمَتَ ٱللَّهِۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ

Transliteration: (Innal lazeena aamanoo wallazeena haajaroo wa jaahadoo fee sabeelil laahi ulaaa'ika yarjoona rahmatal laah; wallaahu Ghafoorur Raheem)

ترجمہ: کنزالایمان - اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-اُولٰٓىٕكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(218) || وہ جو ایمان لائے اور وہ جنہوں نے اللہ کے لئے اپنے گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں لڑے وہ رحمت الٰہی کے امید وار ہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور وہ جنہوں نے اللہ کے لئے اپنے گھر بار چھوڑدئیے اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہ رحمت الٰہی کے امیدوار ہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ || بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور وہ جنہوں نے اللہ کے لئے اپنے گھر بار چھوڑدئیے اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہ رحمت الٰہی کے امیدوار ہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 218 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے۔}اس آیت میں ایمان، ہجرت اور جہاد تین بڑے اعمال کا ذکر ہے اور یہ تینوں اعمال بجا لانے والوں کے بارے ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْۙ-اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ(۲۰)یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ(۲۱) خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۲۲)(توبہ: ۲۰ تا۲۲)

ترجمۂ   کنزُالعِرفان: وہ جنہوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا اللہ کے نزدیک ان کا بہت بڑا درجہ ہے اور وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ان کا رب انہیں اپنی رحمت اور خوشنودی اور جنتوں کی بشارت دیتا ہے، ان کے لئے ان باغوں میں دائمی نعمتیں ہیں۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ ان جنتوں میں رہیں گے بیشک اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔

{اُولٰٓىٕكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ:وہ رحمت الٰہی کے امیدوار ہیں۔} اس سے معلوم ہوا کہ عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ پر اجر دینا واجب نہیں ہوجاتا بلکہ ثواب دینا محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now