Transliteration: (Innal lazeena aamanoo wallazeena haajaroo wa jaahadoo fee sabeelil laahi ulaaa'ika yarjoona rahmatal laah; wallaahu Ghafoorur Raheem)
{اِنَّ الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا: بیشک وہ لوگ جو ایمان
لائے۔}اس آیت میں ایمان، ہجرت اور جہاد تین بڑے اعمال کا ذکر ہے اور یہ تینوں
اعمال بجا لانے والوں کے بارے ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے:
اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ
هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ
اَنْفُسِهِمْۙ-اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ
الْفَآىٕزُوْنَ(۲۰)یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ
بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ
مُّقِیْمٌۙ(۲۱) خٰلِدِیْنَ
فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۲۲)(توبہ: ۲۰ تا۲۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جنہوں نے ایمان
قبول کیا اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا اللہ کے
نزدیک ان کا بہت بڑا درجہ ہے اور وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ان کا رب انہیں
اپنی رحمت اور خوشنودی اور جنتوں کی بشارت دیتا ہے، ان کے لئے ان باغوں میں دائمی
نعمتیں ہیں۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ ان جنتوں میں رہیں گے بیشک اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔
{اُولٰٓىٕكَ یَرْجُوْنَ
رَحْمَتَ اللّٰهِ:وہ رحمت الٰہی کے امیدوار
ہیں۔} اس سے معلوم ہوا کہ عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ
پر اجر دینا واجب نہیں ہوجاتا بلکہ ثواب دینا محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 218 تفسیر