Transliteration: (Allaahu waliyyul lazeena aamanoo yukhrijuhum minaz zulumaati ilan noori wallazeena kafarooo awliyaaa'uhumut Taaghootu yukhrijoonahum minan noori ilaz zulumaat; ulaaa'ika Ashaabun Naari hum feehaa khaalidoon)
{اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: اللہ مسلمانوں کا والی ہے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کا دوست ہے کہ انہیں کفر و ضلالت کی تاریکیوں سے ایمان و ہدایت کی روشنی کی طرف لے جاتا ہے، انہیں انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور صالحین کے طریقے کی طرف لاتا ہے جبکہ کافروں کا دوست شیطان ہے جو انہیں فطرت ِ صحیحہ کی روشنی سے کفر کی تاریکیوں کی طرف لے جاتا ہے۔ حق کا راستہ ایک ہے اور باطل کے بہت سارے راستے ہیں ، اس لئے یہاں ’’نور‘‘ کو واحد اور ’’ ظلمات‘‘ کو جمع ذکر کیا گیا۔
یاد رہے کہ مومنوں کے نور کی طرف جانے کا سب سے بڑا ذریعہ حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں چنانچہ سورۂ ابراہیم آیت نمبر 1میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ہم نے آپ کی طرف کتاب نازل فرمائی ’’ لِتُخْرِ جَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ‘‘ تاکہ آپ لوگوں کو تاریکیوں سے نور کی طرف نکالیں۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 257 تفسیر