Transliteration: (Yu'til Hikmata mai yashaaa'; wa mai yu'tal Hikmata faqad ootiya khairan kaseeraa; wa maa yazzakkaru illaaa ulul albaab)
{یُؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ:اللہ جسے چاہتا ہے حکمت دیتا ہے۔} حکمت سے قرآن، حدیث اور فقہ کا علم، تقویٰ اور نبوت مراد ہوسکتے ہیں۔(مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۶۹، ص۱۳۹، خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۶۹، ۱ / ۲۱۱، ملتقطاً)
کیونکہ قرآن و حدیث سراپا حکمت ہیں اور فقہ اسی سرچشمہ حکمت و ہدایت سے فیض یافتہ علم ہے اور تقویٰ حکمت کا تقاضا ہے جبکہ نبوت سراسر حکمت ہے البتہ یہ بات قطعی ہے کہ ہمارے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد اب کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 269 تفسیر