Transliteration: (Wattaqoo yawman turja'oona feehi ilal laahi summa tuwaffaa kullu nafsim maa kasabat wa hum laa yuzlamoon)
{وَ اتَّقُوْا یَوْمًا: اور اس دن سے ڈرو۔} اس آیت میں قیامت کے دن سے ڈرایا جارہا ہے کہ اس دن سے ڈرو جس میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹایا جائے گا اور اس دن لوگوں کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، نہ بلاوجہ ان کی نیکیاں گھٹائی جائیں اورنہ بدیاں بڑھائی جائیں گی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ یہ آیت سب سے آخری آیت ہے جو حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نازل ہوئی، اس کے بعد حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ 21روز دنیا میں تشریف فرما رہے اور اس کے علاوہ ایک قول یہ ہے کہ 9راتیں اور ایک قول یہ ہے کہ 7دن دنیا میں تشریف فرما رہے۔(بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۱، ۱ / ۵۷۷، خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۱، ۱ / ۲۱۹، ملتقطاً)
البتہ امام شعبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے یہ روایت کی ہے کہ سب سے آخری آیت ’’ آیت رِبا ‘‘ نازل ہوئی۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۱، ۱ / ۲۱۹)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 281 تفسیر