قرآن - 2:32 سورہ البقرہ ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

32
قَالُواْ سُبۡحَٰنَكَ لَا عِلۡمَ لَنَآ إِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَآۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡحَكِيمُ

Transliteration: (Qaaloo subhaanaka laa 'ilma lanaaa illaa maa 'allamtanaaa innaka antal'aleemul hakeem)

ترجمہ: کنزالایمان - قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ(32) || بولے پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا بے شک تو ہی علم و حکمت والا ہے ۔ ترجمہ: کنزالعرفان ۔(فرشتوں نے)عرض کی: (اے اللہ !)تو پاک ہے ۔ ہمیں تو صرف اتنا علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھا دیا ، بے شک تو ہی علم والا، حکمت والا ہے۔ || ۔(فرشتوں نے)عرض کی: (اے اللہ !)تو پاک ہے ۔ ہمیں تو صرف اتنا علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھا دیا ، بے شک تو ہی علم والا، حکمت والا ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 32 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا: ہمیں صرف اتنا علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھادیا۔} حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے علمی فضل و کمال کو دیکھ کر فرشتوں نے بارگاہِ الہٰی میں اپنے عِجز کا اعتراف کیا اور اس بات کا اظہار کیا کہ ان کا سوال اعتراض کرنے کیلئے نہ تھا بلکہ حکمت معلوم کرنے کیلئے تھا اور اب انہیں اِنسان کی فضیلت اور اس کی پیدائش کی حکمت معلوم ہوگئی جس کو وہ پہلے نہ جانتے تھے۔اس آیت سے انسان کی شرافت اور علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف تعلیم کی نسبت کرنا صحیح ہے اگرچہ اس کو معلم نہ کہا جائے گا کیونکہ معلم پیشہ ور تعلیم دینے والے کو کہتے ہیں۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now