Transliteration: (Faqulnad riboohu biba'dihaa; kazaalika yuhyil laa hul mawtaa wa yureekum aayaatihee la'allakum ta'qiloon)
{فَقُلْنَا: تو ہم نے فرمایا۔ } بنی اسرائیل نے گائے ذبح کرکے اس کے کسی عضو سے مردہ کو مارا وہ بحکمِ الہٰی زندہ ہوگیا، اس کے حلق سے خون کا فوارہ جاری تھا، اس نے اپنے چچازاد بھائی کے بارے میں بتایا کہ اس نے مجھے قتل کیا اب اس کو بھی اقرار کرنا پڑا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس پر قصاص کا حکم فرمایا۔ اس آیت ِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مردے کو زندہ کرنے کے اس واقعے سے قیامت کے دن اٹھائے جانے پر دلیل قائم کی کہ تم سمجھ لو کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے اس مردے کو زندہ کیا اسی طرح وہ قیامت کے دن بھی مردوں کو زندہ فرمائے گا کیونکہ وہ مردے زندہ کرنے پر قادر ہے اور روز ِجزا مردوں کو زندہ کرنا اور حساب لینا حق ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 73 تفسیر