Transliteration: (Awalaa ya'lamoona annal laaha ya'lamu maa yusirroona wa maa yu'linoon)
{وَ اِذَا لَقُوْا: اور جب وہ ملتے ہیں۔} حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں :یہودی منافق جب صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے ملتے تو ان سے کہتے کہ جس پر تم ایمان لائے اس پر ہم بھی ایمان لائے، تم حق پر ہو اور تمہارے آقا محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سچے ہیں ، ان کا قول حق ہے، ہم ان کی نعت و صفت اپنی کتاب توریت میں پاتے ہیں۔ جب یہ اپنے سرداروں کے پاس جاتے تو وہ ان منافقوں کو ملامت کرتے ہوئے کہتے:کیا تم مسلمانوں کے سامنے ان کے آقا محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے وہ باتیں بیان کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری کتاب میں بیان فرمائی ہیں تاکہ وہ اس کے ذریعے دنیا و آخرت میں تمہارے اوپر حجت قائم کر دیں کہ جب ہمارے آقا محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا نبی برحق ہونا تمہاری کتابوں میں موجود ہے تو تم نے ان کی پیروی کیوں نہ کی؟ کیا تمہیں عقل نہیں کہ تمہیں یہ کام نہیں کرنا چاہئے۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۷۶، ۱ / ۶۵)
اس سے معلوم ہوا کہ حق پوشی اور سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے اوصاف کو چھپانا اوران کے کمالات کا انکار کرنا یہودیوں کا طریقہ ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ البقرہ آیت 77 تفسیر